رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے اسلامی اور مسیحی مقدسات پر اسرائیلی پابندیوں سے متعلق عرب و اسلامی اعلامیے کی مکمل تائید
مکہ مکرمہ
رابطہ عالم اسلامی نے سعودی عرب، اردن، پاکستان، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مندرجات کی مکمل تائید و حمایت کا اظہار کیا ہے۔
یہ اعلامیہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے لیے حقِ عبادت پر عائد مسلسل اسرائیلی پابندیوں کی مذمت اور انہیں مسترد کرنے سے متعلق ہے؛ جن میں مسلمانوں کے لیے مسجدِ اقصی ”الحرم القدسی الشریف“ کے دروازوں کی مسلسل بندش اور لاطینی پیٹریارک سمیت مسیحیوں کو کلیسائے قیامہ میں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی سے روکنا شامل ہے۔
رابطہ کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں، سیکرٹری جنرل اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے نے ان پابندیوں کو مسترد کرنے اور ان کی مذمت کے موقف کا اعادہ کیا، جو ہر انسان کے لیے مسلمہ حقِ عبادت کے منافی ہیں۔
عزت مآب نے اعلامیے میں شامل ان مطالبات کی اہمیت پر زور دیا جن میں وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے بحیثیت قابض قوت مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجدِ اقصی کے دروازوں کی بندش فوری طور پر ختم کرے، القدس کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد رکاوٹیں دور کرے اور نمازیوں کی مسجد تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے سے باز رہے۔
نیز، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کے خلاف مسلسل خلاف ورزیوں اور غیر قانونی اقدامات سے روکنے کے لیے ایک ٹھوس موقف اختیار کرے۔ اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اسرائیل کے یہ مسلسل اقدامات بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو وہاں کی تاریخی وقانونی حیثیت کی پامالی اور عبادت گاہوں تک بلا روک ٹوک رسائی کے حق پر حملہ تصور کیے جاتے ہیں۔
منگل, 31 March 2026 - 22:04