  ![رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل، شہرِ”فاس“  میں یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں مرکزی  مقرر کے طور پر شریک  فاس](/sites/default/files/img_3751.jpeg) مصنوعی ذہانت کے تناظر میں انسانی تہذیب کا مستقبل:

رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل، شہرِ”فاس“ میں یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں مرکزی مقرر کے طور پر شریک

فاس:
مملکتٍ مراکش کے شہر” فاس“ میں یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی میزبانی میں، عالمی شخصیات، اقوامِ متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد کے اعلی نمائندے، اور 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور جامعہ کے شراکت داروں سمیت دو ہزار سے زائد افراد کی موجودگی میں، رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور چیئرمین مسلم علماء کونسل عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے کانفرنس ”مصنوعی ذہانت کے تناظر میں انسانی تہذیب کا مستقبل“ کی افتتاحی تقریب میں مرکزی خطاب کیا۔
ڈاکٹر العیسی نے اپنے خطاب میں کانفرنس کے موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جو ہماری تہذیبی دنیا اور فکری ارتقا سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی علم وفکر کی جدید تبدیلیاں مرحلہ وار ترقی کے نتیجے میں سامنے آئیں؛ جن کا آغاز سولہویں اور سترہویں صدی کی علمی بیداری سے ہوا، جس نے انسان کو روایتی مادی سوچ سے نکال کر تجرباتی سائنسی منہج کی طرف منتقل کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس منہج کی بنیادیں دسویں اور گیارہویں صدی میں مسلم علما نے استوار کیں، اور اب یہی سفر مصنوعی ذہانت کے انقلاب تک پہنچ چکا ہے، جہاں مشین محض معلومات محفوظ کرنے والے آلے سے بڑھ کر تجزیہ کار اور افکار پیدا کرنے والی قوت بن گئی ہے۔
ڈاکٹر العیسی نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے اس انقلاب کو مشترکہ انسانی اقدار پر مبنی متحدہ اخلاقی اصولوں کے تابع ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک جامع تصور پیش کیا، جس میں اس امر پر تاکید کی گئی کہ مصنوعی ذہانت کے نظام تشکیل دینے سے قبل ان اقدار کا تعین ضروری ہے جن پر عالمی اتفاق ہو، خصوصاً مذاہب، نسلوں اور ثقافتوں سے متعلق معلومات کے میدان میں، تاکہ یہ ٹیکنالوجی نفرت، تعصب، نسل پرستی یا تہذیبی تصادم کے نظریات کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ کمپنیوں کو شفافیت اور جواب دہی کا پابند بنایا جائے، اور حساس، خطرناک یا فیصلہ کن شعبوں میں واضح حدود مقرر ہوں، کیونکہ ایسے معاملات میں آخری فیصلہ انسان ہی کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
عزت مآب نے انسان اور مشین کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ انسان سوچنے میں آزاد ہے، جو اسے درستی کی طرف لے جاتا ہے بشرطیکہ اس کی سوچ کا رخ صحیح ہو۔ اس کے برعکس مشین، بالخصوص مصنوعی ذہانت، آزاد نہیں بلکہ اس کی وابستگی اس کے فراہم کنندہ کی مرضی سے ہوتی ہے، خواہ اسے حقائق فراہم کیے جائیں یا گمراہ کن معلومات۔ لہٰذا اس کا اپنا کوئی شعور یا مستقل ارادہ نہیں ہوتا۔ آپ نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہمارا تہذیبی مستقبل ہم سے وابستہ ہے نہ کہ بذاتِ خود اس مصنوعی ذہانت سے؛ کیونکہ یہ وسیع فضا میں ہماری فراہم کردہ ہدایات اور اختیارات کے مطابق محض ہماری ہی نمائندگی کرتی ہے۔



![رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل، شہرِ”فاس“  میں یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں مرکزی  مقرر کے طور پر شریک  فاس](data:image/svg+xml;charset=utf-8,%3Csvg%20xmlns%3D'http%3A%2F%2Fwww.w3.org%2F2000%2Fsvg'%20viewBox%3D'0%200%201%201'%2F%3E) 

 



![رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل، شہرِ”فاس“  میں یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں مرکزی  مقرر کے طور پر شریک  فاس](data:image/svg+xml;charset=utf-8,%3Csvg%20xmlns%3D'http%3A%2F%2Fwww.w3.org%2F2000%2Fsvg'%20viewBox%3D'0%200%201%201'%2F%3E) 

 



![رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل، شہرِ”فاس“  میں یورو-میڈیٹیرینین یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں مرکزی  مقرر کے طور پر شریک  فاس](data:image/svg+xml;charset=utf-8,%3Csvg%20xmlns%3D'http%3A%2F%2Fwww.w3.org%2F2000%2Fsvg'%20viewBox%3D'0%200%201%201'%2F%3E) 

 





  گزشتہاگلا  

 منگل, 28 April 2026 - 09:48 - 

 <a class="a2a_button_facebook"></a><a class="a2a_button_x"></a><a class="a2a_button_whatsapp"></a><a class="a2a_button_google_gmail"></a><a class="a2a_button_pinterest"></a><a class="a2a_button_copy_link"></a><a class="a2a_button_linkedin"></a>[](https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fftp.themwl.org%2Fur%2Fnode%2F41461&title=%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B7%DB%81%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%DB%8C%DA%A9%D8%B1%D9%B9%D8%B1%DB%8C%20%D8%AC%D9%86%D8%B1%D9%84%D8%8C%20%D8%B4%DB%81%D8%B1%D9%90%E2%80%9D%D9%81%D8%A7%D8%B3%E2%80%9C%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%88-%D9%85%DB%8C%DA%88%DB%8C%D9%B9%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%8C%D9%86%20%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D9%88%D8%B1%D8%B3%D9%B9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%B3%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D9%81%D8%AA%D8%AA%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%B1%DA%A9%D8%B2%DB%8C%20%20%D9%85%D9%82%D8%B1%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B7%D9%88%D8%B1%20%D9%BE%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%DB%8C%DA%A9%20%20%D9%81%D8%A7%D8%B3)